ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق وزیر خارجہ منوچہرمتکی نے ایک اجلاس سے خطاب میں شام کے بارے میں ترکی اور سعودی عرب کے مؤقف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی نے شام کے معاملے میں امریکہ اور اسرائیل کے منصوبوں کی حمایت کرکے بہت بڑآ اشتباہ کیا ہے جبکہ سعودی عرب جمہوریت کا سب سے بڑا دشمن ہے کیونکہ خود سعودی عرب میں جمہوریت کا کوئي نام نشان نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ سعودی عرب غیر علاقائی طاقتوں کی خطے میں مداخلت کا سب سے بڑآ عامل ہے سعودی عرب نے عراق اور افغانستان میں امریکی یلغار کے لئے راہیں ہموار کیں۔ متکی نے کہا کہ لیبیا کے علاوہ تیونس ، مصر اور یمن میں عوام نے امریکہ نواز ڈکٹیٹروں کوآرام کے ساتھ اقتدار سے الگ کیا۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ علاقہ میں جاری عوامی تحریک اور اسلامی بیداری کی موج پر سعودی عرب کے ذریعہ سوار ہونے کی کوشش کررہا ہے اور اس کی جھلکیاں دنیا نے لیبیا میں مشاہدہ کیں انھوں نے کہا کہ امریکی حمایت کے سلسلے میں سعودی عرب نے عوامی بیداری کے رخ کو شام کی طرف موڑنے کی کوشش کی لیکن اسے اس میں سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ شامی عوام بشار اسد کی حکومت کی حمایت میں نکل آئے اور امریکہ اور سعودی عرب کی سازش کو ناکام بنادیا انھوں نے کہا کہ سعودی حکام جمہوریت کی حمایت نہیں کرسکتے کیونکہ آل سعود کی امریکہ نوازحکومت ، جمہوریت کے نتیجے میں ختم ہوجائےگی۔
انھوں نے کہا کہ سعودی عرب نے امریکہ اور اسرائیل نواز عرب حکمرانوں بالخصوص حسنی مبارک کو بچانے کی بہت کوشش کی لیکن اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور اب سعودی حکام، شام میں امریکہ اور اسرائیل مخالف حکومت کو ختم کرنے کے لئے زور لگا رہے ہیں لیکن اس میں بھی سعودی عرب کو ناکامی کا سامنا ہے، متکی نے کہا کہ عرب لوگ اس وقت بیدارہوچکے ہیں اور وہ منافقین کو اچھی طرح پہچانتے ہیں متکی نے کہا کہ افغانستان، عراق، فلسطین اور لبنان میں مسلمانوں کے قتل میں آل سعود کی وہابی حکومت برابر کی شریک ہے۔ متکی نے کہا کہ ترکی اور اردوغان نے بھی شام کے معاملے میں سخت اشتباہ کا ارتکاب کیا ہے۔ .......
/169